Image default
Urdu News پاکستان

جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے، وزیراعظم

جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے، وزیراعظم
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد بہت سے ممالک نے لاک ڈاون کیا، اور جب ہم نے بیرونی دنیا کو دیکھا تو صوبوں نے بھی اپنے طور پر قدم اٹھانا شروع کر دیئے، پہلے دن سے خدشہ تھا کہ مغرب چین یا امریکا کو نقل کریں گے تو نقصان ہوگا کیوں کہ ہماری صورتحال ان سے مختلف ہے، پاکستان میں کچی آبادیاں اور غریب بستیاں ہیں، ہمارے پاس دوہری مشکل ہے، ہم نے ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک سے بچانا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے ہمارے بعد لاک ڈاون کیا، سخت لاک ڈاون کے باوجود بھی بھارت میں متاثر افراد کی تعداد ہم سے ذیادہ ہے، جس طرح کا لاک ڈاون ہمیں لگانے کا کہا جارہا تھا بھارت نے لگایا تو 34 فیصد لوگ شرح غربت سے نیچے چلے گئے، ندوستان کے لاک ڈاوٴن کے بعد مجھ پر دباوٴ زیادہ بڑھ گیا، خود میری کابینہ کا مجھ پر پریشر تھا، لیکن مجھے غریب طبقے کی فکر تھی، اگر ہماری معیشت سنگاپور کی طرح ہوتی تو پھر بہترین چیز کرفیو تھی مگر پاکستان کی صورتحال مختلف ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احتیاط نہ کی تو ہمارے اسپتالوں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا، اپنے بوڑھوں اوربچوں کو خاص طورپر بچانا ہے، اسپتالوں پر دباؤ بڑھ چکا ہے اور اگر احتیاط نہ کی تو گنجائش بھی ختم ہوسکتی ہے، سرکاری ادارے دن رات کام کرتے تھک چکے ہیں، ہم نے ایس او پی عمل کے لئے ٹائیگر فورس کو انتظامیہ کی مدد پر لگایا ہے، لوگوں کو بتانا ہوگا ایس او پی پر عمل کرنا ہوگا تبھی کورونا پھیلاو سے بچ سکیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ بار بار کہا جاتا ہے حکومت ابہام کا شکار تھی، اگر ملک میں کسی حکومت میں ابہام نہیں تھا تو وہ ہمارا ملک اور ہماری حکومت تھی، 13 مارچ سے اب تک میری کسی ایک بات میں بتادیں کہ میں نے تضاد برتا ہو؟ آج دنیا کرونا بڑھنے کے باوجود لاک ڈاون کھول رہی ہے اور اسمارٹ لاک ڈاون کی طرف بڑھ رہی ہے، این سی او سی کے درست اعدادوشمار کی وجہ سے ہم کاروبار بھی کھول رہے ہیں اور مخصوص جگہوں پر اسمارٹ لاک ڈاون بھی کررہے ہیں، ہم نے 13 مارچ سے اکانومی بند کی مگر ہم نے اسے جلد کھول دیا، ساری دنیا کی طرح ہماری بھی معیشت کو نقصان پہنچا ہے البتہ اسمارٹ لاک ڈاوٴن کی وجہ سے ہم نے کافی حد تک بہتری کی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سو سال میں پہلی بار ایسا معاشی بحران آیا ہے، دنیا کی معیشت کو بارہ کھرب ڈالر کا نقصان ہوچکا، برطانیہ کی معیشت بیس فیصد نیچے چلی گئی، کہا جاتا ہے کہ ہم کرونا کے پیچھے چھپ رہے ہیں، ہم کورونا کے پیچھے نہیں چھپ رہے ہیں، جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ہمیں کوئی سوئٹزرلینڈ کی معیشت نہیں ملی تھی، 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ تھا، ایکسپورٹ اور امپورٹ میں بڑا فرق تھا، اس وقت ڈالر 104 سے 122 پر ملا اور اس کے بعد جب ہم نے اقدام اٹھایا تو روپیہ مزید غیر مستحکم ہوا، اس وجہ سے غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہونا تھا۔

Related posts

وزیراعظم کے دورہ ایران وسعودی عرب کا شیڈول تیار ہو گیا ،،، اندر کی خبر آگئی

talonnews

اب تو مریم کو بھی ساتھ بھیجنے کو تیار ہیں

talonnews

مشرف غداری کیس اہم پیشرفت

Talon News

Leave a Comment